السلام علیکم ورحمة الله وبركاته
بسم الله الرحمن الرحيم
قال رسول الله ﷺ “يد الله على الجماعة” (جماعت پر اللہ کا ہاتھ ہوتا ہے)۔
“علاقہ کوکن کی ہر بستی میں جماعت المسلمین کا منظم اور مضبوط نظام ہماری روشن تاریخ کا ایک اہم حصہ ہے”۔
آپ کی تحریر میں یہ ابتدائی جملہ پڑھ کر میں ماضی کے سنہرے دور میں کھو گیا، جب ہمارے بزرگ حضرات گاؤں کے بڑے بڑے مسائل اسی جماعت المسلمین کی مجلسوں میں حل کیا کرتے تھے۔ کورٹ کچہری کی طرف کوئی شاذ و نادر ہی رخ کیا کرتا تھا، جس سے قوم و ملت کی نجی باتیں گاؤں کی سرحدوں کے باہر نہیں جاتی تھیں۔ اس کی وجہ سے ہمارے مال و دولت اور ہماری عزتیں سر بازار نیلام ہونے سے بچ جاتی تھیں۔
مگر آج ہمارا مزاج بدل گیا ہے۔ اب ہم چھوٹی چھوٹی باتوں کے لیے کورٹ کچہری پہنچ جاتے ہیں، اور جماعت المسلمین کا کام صرف شادی بیاہ اور میتوں کی تدفین تک ہی محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ شادی بیاہ کی تقریبات بھی جماعت المسلمین کی گرفت کے باہر نکل چکی ہیں۔ جسے چاہے اور جیسا چاہے شراب و شباب، گانے بجانے کی محفلوں کا انعقاد دھڑلے سے کرتا ہے، اور جماعت المسلمین کی حیثیت اب ایک تماشائی جیسی بن کر رہ گئی ہے۔
ماضی قریب میں ہمارے اسلاف کا طریقہ یہ تھا کہ جماعت کی میٹنگوں میں چند ذمہ داران ہی بولتے تھے، اور سارا گاؤں بڑے ہی ادب و احترام سے سنتا تھا۔ آج سارا گاؤں بولتا ہے اور سننے والا کوئی نہیں۔ اسی لیے جماعتی نظام کی کوئی وقعت باقی نہیں رہی۔ اللہ تعالٰی ہمارے حال زار پر رحم فرمائے۔
اس (جماعت المسلمین) کے سلسلے میں آپ کی اس فکر کو دیکھ کر امید کی ایک کرن نظر آئی ہے۔ اللہ تعالٰی اسے تقویت بخشے۔ ہمیں چاہئے کہ ہم سب مل کر ہمارے جماعتی نظام کو پھر سے زندہ اور مضبوط کرنے کی کوشش کریں۔ اللہ تعالٰی ہمارا حامی و ناصر ہو۔
غلام عبداللہ پرکار، کرجی، کھیڈ